ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / جنرک میڈیکل اسٹورس میں دوائیوں کی شدید قلت غریب مریض پریشان، نجی میڈیکل اسٹورس سے دوائیاں خریدنے پر مجبور

جنرک میڈیکل اسٹورس میں دوائیوں کی شدید قلت غریب مریض پریشان، نجی میڈیکل اسٹورس سے دوائیاں خریدنے پر مجبور

Sun, 10 Jun 2018 10:53:57    S.O. News Service

بنگلورو،9؍جون (ایس او نیوز) عام لوگوں کو کم قیمت میں دوائیاں فراہم کرنے کی غرض سے قائم کئے گئے جنرک میڈیکل اسٹورس میں گزشتہ دو مہینوں سے دوائیوں کی قلت پیش آرہی ہے ۔جنرک میڈیکل اسٹورس کا آغاز ہوکر کئی سال گزر گئے اس کے باوجود اب تک مناسب مقدار میں مریضوں کو دوائیاں فراہم کرنے میں حکومت ناکام رہی ہے ۔ جنرک میڈیکل اسٹورس میں دوائیوں کی قلت دن بہ دن بڑھتی ہی جارہی ہے جس کی وجہ سے مریضوں کو مجبوراً نجی میڈیکل اسٹورس سے دوائی خریدنی پڑرہی ہے ۔ کرناٹک میں 315 جنرک اسٹورس ہیں ان میں سے کئی میڈیکل اسٹورس کی صورتحال ابتر ہے ۔ جنرک میڈیکل اسٹورس میں بلڈ پریشر اور ذیابیطس کے امراض کی دوائی زیادہ مقدار میں فروخت ہوتی تھی لیکن اب دوائیوں کی قتل پیش آرہی ہے ۔ باوثوق ذرائع سے ملنے والی اطلاع کے مطابق 2008ء میں ہی جنرک میڈیکل اسٹورس کے قیام کی اسکیم نافذ کرنے کیلئے مرکزی حکومت کو تجویز پیش کی گئی تھی ۔ اس کے چند سالوں کے بعدمرکز نے اس اسکیم کیلئے نہ صرف منظوری دی بلکہ تمام جنرک اسٹورس کو دوائی سپلائی کرنے کیلئے متعلقہ کمپنی کو بھی ہدایت دی تھی ابتداء میں کمپنی نے دلچسپی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ریاست کے تمام جنرک میڈیکل اسٹورس کیلئے درکار تمام ادویات فراہم کئے تھے اس کے بعد اس کمپنی کی دلچسپی گھٹتی گئی اور آج کئی جنرک میڈیکل اسٹورس میں دوائیاں دستیاب نہ ہونے پر مریضوں کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ واضح رہے کہ اسکیم کے مطابق مرکزی حکومت 600سے زائد ضروری دوائی اور 154 سے زائد سرجیکل اشیاء کو کم قیمتوں میں فراہم کرنا ہے ۔ ابتدا ء میں اس کے لئے مناسب اقدامات کئے گئے تھے ۔ جنرک میڈیکل اسٹورس کے قیام کے سبب نجی میڈیکل اسٹورس کو نقصان اٹھانا پڑا ۔ بتایا جارہا ہے کہ دوائی سپلائی کرنے والی کمپنیاں مناسب مقدار میں فراہم نہیں کررہے ہیں جس کی وجہ سے جنرک میڈیکل اسٹورس میں دوائیوں کی قلت پیش آرہی ہے ۔ مزید 3-4 مہینوں تک یہی صورتحال جاری رہنے کا امکان ہے ۔مریضوں کا کہنا ہے کہ اس سے قبل وہ ذبابیطس کی دوائی نجی میڈیکل اسٹورس سے تقریباً ایک ہزار روپیوں میں خریدتے تھے ۔ جنرک میڈیکل اسٹور کے قیام کے بعد وہ یہیں سے دوائیاں خریدنا شروع کئے اس وقت انہیں ان دوائیوں کے لئے 200تا 220 روپئے خرچ کرنا پڑتا تھا ، اب جنرک میڈیکل اسٹورس میں یہ دوائی دستیاب نہیں ہے جس کے سبب انہیں دوبارہ نجی میڈیکل اسٹورس سے دوائی خریدنی پڑرہی ہے ۔ دوسری طرف بیورو آف فارما پبلک سیکٹر انڈر ٹیکنگس آف انڈیا (بی پی پی آئی ) کے سی ای او سچن کمار سنگھ کے مطابق ملک بھر میں واقع جنرک میڈیکل اسٹورس کی مانگ زیادہ ہے ۔ دوائیوں کی سربراہی میں جور کاوٹیں پیش آرہی ہیں اس کو جلد از جلد دور کرنے کیلئے مناسب اقدامات کئے جارہے ہیں ۔ اس ماہ کے اواخر تک یہ مسئلہ حل ہوجانے کا امکان ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ مارچ میں متعلقہ میڈیکل اسٹورس میں دوائی فراہم کرنے میں رکاوٹیں پیش آئیں ۔ اپریل کے مہینہ میں اس میں کافی سدھار دیکھا گیا ۔ جولائی سے تمام جنرک میڈیکل اسٹورس کو مناسب مقدار میں دوائیاں دستیاب ہوں گی ۔


Share: